نہیں شوق خریداری میں دوڑے جا رہا ہے

اعجاز گل

نہیں شوق خریداری میں دوڑے جا رہا ہے

اعجاز گل

MORE BYاعجاز گل

    نہیں شوق خریداری میں دوڑے جا رہا ہے

    یہ گاہک سیر بازاری میں دوڑے جا رہا ہے

    میسر کچھ نہیں ہے کھیل میں لا حاصلی کے

    یونہی بیکار بیکاری میں دوڑے جا رہا ہے

    اٹھائے پھر رہا ہے کوتوال عمر چابک

    بدن مجبور لاچاری میں دوڑے جا رہا ہے

    کھڑی ہے منفعت حیران باہر دائرے سے

    زیاں اپنی زیاں کاری میں دوڑے جا رہا ہے

    ٹھہرنا بھی کہاں ہے سہل ان سیارگاں کو

    نہ ثابت سے ہی سیاری میں دوڑے جا رہا ہے

    اتارا خواہشوں کا ہے اضافی بوجھ سر سے

    تو آسانی سے دشواری میں دوڑے جا رہا ہے

    نہیں ہمت کہ جس میں ہو زمانے کے مقابل

    وہ اپنے گھر کی رہداری میں دوڑے جا رہا ہے

    نہیں ملتا مگر روزن کہ نکلے عکس باہر

    پس آئینہ زنگاری میں دوڑے جا رہا ہے

    سمیٹا جھوٹ کی پرکار نے ہے پیش و پس کو

    کہ اب ہر سچ ریاکاری میں دوڑے جا رہا ہے

    خبر ہے رت بدلنے کی اگر رشک صبا وہ

    خرام انداز گلزاری میں دوڑے جا رہا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY