نئی تہذیب سے بچوں کو بچاؤں کیسے

ماہر عبدالحی

نئی تہذیب سے بچوں کو بچاؤں کیسے

ماہر عبدالحی

MORE BYماہر عبدالحی

    نئی تہذیب سے بچوں کو بچاؤں کیسے

    خود تو بگڑا ہوں زمانے کو بناؤں کیسے

    وہ نہ دیکھے میری جانب تو نہیں اس کی خطا

    میں اندھیرے میں پڑا ہوں نظر آؤں کیسے

    میرے آنگن میں تو آئی ہی نہیں موج بہار

    کوئی پھولوں سے بھرا گیت سناؤں کیسے

    چاہتا تو ہوں کہ دیکھوں پس پردہ کیا ہے

    دسترس جس پہ نہ ہو اس کو اٹھاؤں کیسے

    پر نکلتے ہی کوئی اس کو کتر دیتا ہے

    اپنے بچوں کو فضاؤں میں اڑاؤں کیسے

    وقت محدود دیا کام دیا لا محدود

    زندگی بول ترا قرض چکاؤں کیسے

    جسم پر چوٹ لگی ہو تو دکھاؤں ماہرؔ

    دل پہ جو چوٹ لگی ہے وہ دکھاؤں کیسے

    مآخذ
    • کتاب : Hari Sonahri Khak (Ghazal) (Pg. 63)
    • Author : Mahir Abdul Hayee
    • مطبع : Bazme-e-Urdu,Mau (2008)
    • اشاعت : 2008

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY