نقاب چہرے سے میرے ہٹا رہی ہے غزل

عبید الرحمان

نقاب چہرے سے میرے ہٹا رہی ہے غزل

عبید الرحمان

MORE BYعبید الرحمان

    نقاب چہرے سے میرے ہٹا رہی ہے غزل

    حصار ذات سے باہر بلا رہی ہے غزل

    یہ کون ہے جو بہت بے قرار ہے مجھ میں

    یہ کس کے قرب میں یوں کسمسا رہی ہے غزل

    وہ خول جس میں مقید ہوں ٹوٹنے کو ہے

    مجھے بہار کا مژدہ سنا رہی ہے غزل

    وجود کا ہوا جاتا ہے فلسفہ پانی

    رموز ذات سے پردے اٹھا رہی ہے غزل

    جو معترض تھے ہوئے وہ بھی معترف اس کے

    ہر ایک دور میں جادو نما رہی ہے غزل

    سہا ہے خود پہ ہر اک تیر طنز کا ہنس کر

    پیا ہے زہر مگر مسکرا رہی ہے غزل

    ہے قدردان کو اپنے یہ وجہ سرشاری

    یہ حاسدوں کے دلوں کو جلا رہی ہے غزل

    کہ صرف گل ہی نہیں خار سے بھی نسبت ہے

    یہ اور بات کہ باد صبا رہی ہے غزل

    کرے ہے اس پہ ریاضت کہ اس کا حسن کھلے

    عبیدؔ کے لیے مثل حنا رہی ہے غزل

    تھا ایک شغل مرا میری یہ غزل گوئی

    عبیدؔ ذات کو اب اپنی بھا رہی ہے غزل

    مآخذ :
    • کتاب : Soch Abshar (Poetry) (Pg. 93)
    • Author : Obaidur Rahman
    • مطبع : Sehla Obaid (2007)
    • اشاعت : 2007

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY