نقاب چہرے سے اس کے کبھی سرکتا تھا

عرفان احمد

نقاب چہرے سے اس کے کبھی سرکتا تھا

عرفان احمد

MORE BYعرفان احمد

    نقاب چہرے سے اس کے کبھی سرکتا تھا

    تو کالے بادلوں میں چاند سا چمکتا تھا

    اسے بھی خطۂ سر سبز مل گیا شاید

    وہ ایک ابر کا ٹکڑا جو کل بھٹکتا تھا

    وہ میرے ساتھ جو چلتا تھا گھر کے آنگن میں

    تو ماہتاب بھی پلکیں بہت جھپکتا تھا

    یہ کہہ کے برق بھی برسات میں بہت روئی

    کہ ایک پیڑ چمن میں غضب مہکتا تھا

    غم حیات نے بخشے ہیں سارے سناٹے

    کبھی ہمارے بھی پہلو میں دل دھڑکتا تھا

    جو ہو گئی ہے کبھی ابر کی نوازش بھی

    تو سائبان کئی دن تلک ٹپکتا تھا

    اکیلے پار اتر کے بہت ہے رنج مجھے

    میں اس کا بوجھ اٹھا کر بھی تیر سکتا تھا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY