نظر سے دور رہے مجھ کو آزمائے بھی

راشد انور راشد

نظر سے دور رہے مجھ کو آزمائے بھی

راشد انور راشد

MORE BYراشد انور راشد

    نظر سے دور رہے مجھ کو آزمائے بھی

    اگر وہ وقت نہیں ہے تو لوٹ آئے بھی

    ہے آبشار تو احساس کو کرے سیراب

    وہ پیاس ہے تو مری تشنگی بڑھائے بھی

    وہ موج ہے تو مجھے غرق بھی ضرور کرے

    ہے ناخدا تو بھنور سے نکال لائے بھی

    وہ خواب ہے تو کرے بس قیام آنکھوں میں

    اگر ہے خوف تو نیندیں مری اڑائے بھی

    وہ مسئلہ ہے تو میری جبیں پہ روشن ہو

    وہ کوئی حل ہے تو دل کو قرار آئے بھی

    نظر شناس نہ ہو تو مجھے بھی تڑپائے

    وہ دل نواز اگر ہے تو مان جائے بھی

    اگر وہ اور کوئی ہے تو کوئی بات نہیں

    ہے زندگی تو اندھیروں میں گنگنائے بھی

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY