نظر سے قید تعین اٹھائی جاتی ہے

شکیل بدایونی

نظر سے قید تعین اٹھائی جاتی ہے

شکیل بدایونی

MORE BY شکیل بدایونی

    نظر سے قید تعین اٹھائی جاتی ہے

    تجلیٔ رخ جاناں دکھائی جاتی ہے

    جب ان کو حوصلۂ دل پہ اعتبار نہیں

    تو پھر نظر سے نظر کیوں ملائی جاتی ہے

    خم و سبو کی ضرورت کے ہم نہیں قائل

    شراب مست نظر سے پلائی جاتی ہے

    ستم نوازئ پیہم ہے عشق کی فطرت

    فضول حسن پہ تہمت لگائی جاتی ہے

    بھلا دیا ہے غم روزگار نے جس کو

    وہ داستاں مجھے پھر یاد آئی جاتی ہے

    شکیلؔ دورئ منزل سے ناامید نہ ہو

    اب آئی جاتی ہے منزل اب آئی جاتی ہے

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نظر سے قید تعین اٹھائی جاتی ہے نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY