نظر اٹھی ہے جدھر بھی ادھر تماشا ہے

نثار ترابی

نظر اٹھی ہے جدھر بھی ادھر تماشا ہے

نثار ترابی

MORE BYنثار ترابی

    نظر اٹھی ہے جدھر بھی ادھر تماشا ہے

    بشر کے واسطے جیسے بشر تماشا ہے

    زمیں ٹھہرتی نہیں اپنے پاؤں کے نیچے

    پڑاؤ اپنا ہے جس میں وہ گھر تماشا ہے

    یہاں قیام کرے گا نہ مستقل کوئی

    ذرا سی دیر رکے گا اگر تماشا ہے

    فگار ہو کے بھی رکھے گا آبروئے نمو

    نگاہ زر میں جو دست ہنر تماشا ہے

    اے موسموں کے خدا بھید یہ کھلے آخر

    نگاہ شاخ میں کیسے شجر تماشا ہے

    نہ بال و پر ہیں میسر نہ اذن گویائی

    تو اس کے معنی ہیں اپنی سحر تماشا ہے

    ملا نثارؔ ترابی سرائے حیرت سے

    وہ آئنا جسے اپنی نظر تماشا ہے

    مآخذ:

    • کتاب : Pakistani Adab (Pg. 702)
    • Author : Dr. Rashid Amjad
    • مطبع : Pakistan Academy of Letters, Islambad, Pakistan (2009)
    • اشاعت : 2009

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY