نگاہ یار سے ہوتا ہے وہ خمار مجھے

آصف رشید اسجد

نگاہ یار سے ہوتا ہے وہ خمار مجھے

آصف رشید اسجد

MORE BY آصف رشید اسجد

    نگاہ یار سے ہوتا ہے وہ خمار مجھے

    کہ رت خزاں کی بھی لگنے لگے بہار مجھے

    فصیل عشق پہ رکھا ہوا چراغ ہوں میں

    ہوائے ہجر کا رہتا ہے انتظار مجھے

    جدائیاں ہیں مقدر تو پھر گلے کیسے

    لکھے ہوئے پہ تجھے ہے نا اختیار مجھے

    فقط زباں سے نا کہہ مجھ کو زندگی اپنی

    میں زندگی ہوں تو اچھی طرح گزار مجھے

    میں آئنہ تھا کبھی اب تو صرف شیشہ ہوں

    یہ لوگ دیکھتے رہتے ہیں میرے پار مجھے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY