نگاہوں سے دل میں سمانے لگے ہو
محبت کا جادو جگانے لگے ہو
مٹانے لگے ہو مرا نقش ہستی
جوانی کو بے خود بنانے لگے ہو
تصور کے خاکوں میں بھرنے لگے رنگ
امیدوں کی بستی بسانے لگے ہو
رگ جاں میں اترے ہو نغموں کی لے میں
مری روح میں گنگنانے لگے ہو
مجھے لے چلے ہو کٹھن وادیوں میں
تماشائے منزل دکھانے لگے ہو
گماں بھی نہ ہو جب مجھے زندگی کا
مرے پاس اس وقت آنے لگے ہو
مجھے بھی لگے پیار سے دیکھنے تم
مجھے بھی نظرؔ آزمانے لگے ہو
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.