نیند آئی ہی نہیں ہم کو نہ پوچھو کب سے

صدا انبالوی

نیند آئی ہی نہیں ہم کو نہ پوچھو کب سے

صدا انبالوی

MORE BY صدا انبالوی

    نیند آئی ہی نہیں ہم کو نہ پوچھو کب سے

    آنکھ لگتی ہی نہیں دل ہے لگایا جب سے

    ان کو محبوب کہیں یا کہ رقیب اب اپنا

    ان کو بھی پیار ہوا جائے ہے اپنی چھب سے

    اشک آنکھوں سے مری نکلے مسلسل لیکن

    اس نے اک حرف تسلی نہ نکالا لب سے

    دل سکھاتا ہے سب آداب محبت کے خود

    یہ سبق سیکھا نہیں جاتا کسی مکتب سے

    اپنی اردو تو محبت کی زباں تھی پیارے

    اب سیاست نے اسے جوڑ دیا مذہب سے

    میں بھی تو دیکھوں غرض سے جھکی آنکھیں ان کی

    کاش آئیں وہ مرے پاس کبھی مطلب سے

    بھیڑ ہم جیسوں کی رہتی ہے ہمیشہ یوں تو

    روشنی ہوتی ہے محفل میں بس اک کوکب سے

    مری آنکھوں کے لیے روشنی سے ہے بڑھ کر

    تری زلفوں کی سیاہی جو ہے گہری شب سے

    سیکھ نفرت کی نہ دے اے صداؔ مذہب کوئی

    ہے اصول اپنا کئے جاؤ محبت سب سے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY