نیند کے بوجھ سے پلکوں کو جھپکتی ہوئی آئی

امیر امام

نیند کے بوجھ سے پلکوں کو جھپکتی ہوئی آئی

امیر امام

MORE BYامیر امام

    نیند کے بوجھ سے پلکوں کو جھپکتی ہوئی آئی

    صبح جب رات کی گلیوں میں بھٹکتی ہوئی آئی

    دیدۂ خشک میں اک ماہیٔ بے آب تھی نیند

    چشمۂ خواب تلک آئی پھڑکتی ہوئی آئی

    اور پھر کیا ہوا کچھ یاد نہیں ہے مجھ کو

    ایک بجلی تھی کہ سینہ میں لپکتی ہوئی آئی

    آج کیا پھر کسی آواز نے بیعت مانگی

    یہ مری خامشی جو پاؤں پٹکتی ہوئی آئی

    رات گھبرا گئی سورج سے کہا ال مددے

    وہ بصد ناز جو زلفوں کو جھٹکتی ہوئی آئی

    ہو گئی خیر ترا نام نہ آیا لب پر

    ایک آہٹ تری خوشبو میں مہکتی ہوئی آئی

    وقت رخصت مری آنکھوں کی طرح چپ تھی جو یاد

    اے مرے دل تری مانند دھڑکتی ہوئی آئی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY