نسبت ہی کسی سے ہے نہ رکھتے ہیں حوالے

نور جہاں ثروت

نسبت ہی کسی سے ہے نہ رکھتے ہیں حوالے

نور جہاں ثروت

MORE BYنور جہاں ثروت

    نسبت ہی کسی سے ہے نہ رکھتے ہیں حوالے

    ہاں ہم نے جلا ڈالے ہیں رشتوں کے قبالے

    بے روح ہیں الفاظ کہیں بھی تو کہیں کیا

    ہے کون جو معنی کے سمندر کو کھنگالے

    جس سمت بھی جاؤں میں بکھر جانے کا ڈر ہے

    اس خوف مسلسل سے مجھے کون نکالے

    میں دشت تمنا میں بس اک بار گئی تھی

    اس وقت سے رستے ہیں مرے پاؤں کے چھالے

    بے چہرہ سہی پھر بھی حقیقت ہے حقیقت

    سکہ تو نہیں ہے جو کوئی اس کو اچھالے

    ثروتؔ کو اندھیروں سے ڈرائے گا کوئی کیا

    وہ ساتھ لیے آئی ہے قدموں کے اجالے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY