پائے طلب کی منزل اب تک وہی گلی ہے

عروج زیدی بدایونی

پائے طلب کی منزل اب تک وہی گلی ہے

عروج زیدی بدایونی

MORE BYعروج زیدی بدایونی

    پائے طلب کی منزل اب تک وہی گلی ہے

    آغاز بھی یہی تھا انجام بھی یہی ہے

    جس داستان غم کا عنوان روشنی ہے

    ہر لفظ کی سیاہی خود منہ سے بولتی ہے

    طرز تپاک قائم لطف نظر وہی ہے

    لیکن یہ واقعہ ہے پھر بھی کوئی کمی ہے

    ان کی نظر سے دل کی یہ بحث ہو رہی ہے

    کیا چیز زندگی میں مقصود زندگی ہے

    ہر لغزش بشر پر تنقید کرنے والو

    تم یہ بھلا چکے ہو انسان آدمی ہے

    یہ سازش تغیر ہے کتنی جان لیوا

    مجھ کو جگا کے میری تقدیر سو گئی ہے

    ہاں میرے واسطے ہے تخصیص کا یہ پہلو

    دنیا سمجھ رہی ہے انداز بے رخی ہے

    ممکن نہیں کہ دامن بے داغ ہو کسی کا

    سچ پوچھئے تو دنیا کاجل کی کوٹھری ہے

    تابندہ ہر نفس ہے امید کی بدولت

    محراب زندگی میں اک شمع جل رہی ہے

    دیکھے تو کوئی شان سحر نگاہ ساقی

    ساغر میں کھنچ کے روح مے خانہ آ گئی ہے

    وابستۂ‌ نفس ہے نظم و نظام ہستی

    یعنی ہوا پہ قائم بنیاد زندگی ہے

    کب تک یہ خواب غفلت جاگو عروجؔ جاگو

    اب دھوپ بڑھتے بڑھتے سر پر ہی آ گئی ہے

    مآخذ :
    • کتاب : Lahje ke Chiraag (Pg. 89)
    • Author : Urooj Zaidi
    • مطبع : Irfan Zaidi, Rampur (1989)
    • اشاعت : 1989

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY