پائیں ہر ایک راہگزر پر اداسیاں

امیر قزلباش

پائیں ہر ایک راہگزر پر اداسیاں

امیر قزلباش

MORE BYامیر قزلباش

    پائیں ہر ایک راہگزر پر اداسیاں

    نکلی ہوئی ہیں کب سے سفر پر اداسیاں

    خوابیدہ شہر جاگنے والا ہے لوٹ آؤ

    بیٹھی ہوئی ہیں شام سے گھر پر اداسیاں

    میں خوف سے لرزتا رہا پڑھ نہیں سکا

    پھیلی ہوئی تھیں ایک خبر پر اداسیاں

    سورج کے ہاتھ سبز قباؤں تک آ گئے

    اب ہیں یہاں ہر ایک شجر پر اداسیاں

    اپنے بھی خط و خال نگاہوں میں اب نہیں

    اس طرح چھا گئی ہیں نظر پر اداسیاں

    پھیلا رہا ہے کون کبھی سوچتا ہوں میں

    خوابوں کے ایک ایک نگر پر اداسیاں

    سب لوگ بن گئے ہیں اگر اجنبی تو کیا

    چھوڑ آئیں گی مجھے مرے در پر اداسیاں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY