پانی آنکھ میں بھر کر لایا جا سکتا ہے

عباس تابش

پانی آنکھ میں بھر کر لایا جا سکتا ہے

عباس تابش

MORE BYعباس تابش

    پانی آنکھ میں بھر کر لایا جا سکتا ہے

    اب بھی جلتا شہر بچایا جا سکتا ہے

    ایک محبت اور وہ بھی ناکام محبت

    لیکن اس سے کام چلایا جا سکتا ہے

    دل پر پانی پینے آتی ہیں امیدیں

    اس چشمے میں زہر ملایا جا سکتا ہے

    مجھ گمنام سے پوچھتے ہیں فرہاد و مجنوں

    عشق میں کتنا نام کمایا جا سکتا ہے

    یہ مہتاب یہ رات کی پیشانی کا گھاؤ

    ایسا زخم تو دل پر کھایا جا سکتا ہے

    پھٹا پرانا خواب ہے میرا پھر بھی تابشؔ

    اس میں اپنا آپ چھپایا جا سکتا ہے

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    عباس تابش

    عباس تابش

    عباس تابش

    عباس تابش

    مآخذ:

    • کتاب : Ishq Abaad (kulliyat) (Pg. 351)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY