پہلے جیسا رنگ بام و در نہیں لگتا مجھے

ناز خیالوی

پہلے جیسا رنگ بام و در نہیں لگتا مجھے

ناز خیالوی

MORE BYناز خیالوی

    پہلے جیسا رنگ بام و در نہیں لگتا مجھے

    اب تو اپنا گھر بھی اپنا گھر نہیں لگتا مجھے

    لگتی ہوگی تجھ کو بھی میری نظر بدلی ہوئی

    تیرا پیکر بھی ترا پیکر نہیں لگتا مجھے

    کیا کہوں اس زلف سے وابستگی کا فائدہ

    اب اندھیری رات میں بھی ڈر نہیں لگتا مجھے

    مجھ کو زخمی کر نہیں سکتا کوئی دست ستم

    میں ندی کا چاند ہوں پتھر نہیں لگتا مجھے

    سنت شاہ امم کا ہوں میں لذت آشنا

    خاک سے بہتر کوئی بستر نہیں لگتا مجھے

    جب سے دستار فضیلت پائی ہے دربار میں

    جانے کی شانوں پہ اپنا سر نہیں لگتا مجھے

    ہیں سخنور نازؔ اچھے اور بھی اس دور میں

    کوئی دانشؔ کا مگر ہمسر نہیں لگتا مجھے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY