پہلے جو میرا رنگ تھا اب وہ نہیں رہا

فرخ عدیل

پہلے جو میرا رنگ تھا اب وہ نہیں رہا

فرخ عدیل

MORE BYفرخ عدیل

    پہلے جو میرا رنگ تھا اب وہ نہیں رہا

    میلا کیا ہے جس نے وہی دھو نہیں رہا

    جاگا ہوا ہے دل میں کوئی درد بے کراں

    لوری سنا رہا ہوں مگر سو نہیں رہا

    سوچو ذرا یہ کتنی اذیت کی بات ہے

    ہم مر رہے ہیں اور کوئی رو نہیں رہا

    یعنی چرا کے لے ہی گیا ہے مجھے وہ شخص

    آئینہ کہہ رہا ہے کہ تو وہ نہیں رہا

    نزدیک ہے کہ اب مجھے ڈس لے سیاہ رات

    میرا وجود جلتا دیا جو نہیں رہا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY