پہنچ کے ہم سر منزل جنہیں بھلا نہ سکے

فرید جاوید

پہنچ کے ہم سر منزل جنہیں بھلا نہ سکے

فرید جاوید

MORE BYفرید جاوید

    پہنچ کے ہم سر منزل جنہیں بھلا نہ سکے

    وہ ہم سفر تھے جو کچھ دور ساتھ آ نہ سکے

    تمام عمر پشیمانیوں میں بیت گئی

    بقدر شوق محبت کے ناز اٹھا نہ سکے

    مجھے خیال ہے ان دل گرفتہ کلیوں کا

    جنہیں نسیم سحر چھیڑ دے کھلا نہ سکے

    کچھ ایسے درد بھی ہیں زندگی کی راہوں میں

    جہاں حجاب تبسم بھی کام آ نہ سکے

    کرم کی آس کے سایوں میں بجھ گیا وہ چراغ

    ہوائے یاس کے جھونکے جسے بجھا نہ سکے

    اندھیری شب تھی ستاروں سے کیا سکوں ملتا

    ستارے بھی تو بہت دیر جگمگا نہ سکے

    غزل کے حسن کا احساس اس کو کیا جاویدؔ

    خلوص نرمئ گفتار کو جو پا نہ سکے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY