پیدا کیا ہے اڑتی ہوئی خاک سے مجھے

رفیق راز

پیدا کیا ہے اڑتی ہوئی خاک سے مجھے

رفیق راز

MORE BYرفیق راز

    پیدا کیا ہے اڑتی ہوئی خاک سے مجھے

    نسبت یہی ہے صرصر سفاک سے مجھے

    اب تو اسیر گردش لیل و نہار ہوں

    مدت ہوئی ہے اترے ہوئے چاک سے مجھے

    آئے گا کوئی کھولے گا بند قبائے حرف

    دے گا نجات کاغذی پوشاک سے مجھے

    دنیا ہے عشوہ ساز تو میں ہوں مکین ذات

    خطرہ نہیں ہے اس زن بے باک سے مجھے

    پر پھڑپھڑا رہا ہوں بصیرت کے دام میں

    کوئی چھڑائے قبضۂ ادراک سے مجھے

    رہ جائے گی لکیر لہو کی زمین پر

    لے جائیے نہ باندھ کے فتراک سے مجھے

    مجھ سے زمین خوف زدہ ہے رفیق رازؔ

    یہ جانتی ہے ربط ہے افلاک سے مجھے

    مأخذ :
    • کتاب : Nakhl-e-Aab (Pg. 77)
    • Author : Rafeeq Raaz
    • مطبع : Takbeer Publications, Srinagar (2015)
    • اشاعت : 2015

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے