پلکوں پہ لے کے بوجھ کہاں تک پھرا کروں

جاوید نسیمی

پلکوں پہ لے کے بوجھ کہاں تک پھرا کروں

جاوید نسیمی

MORE BYجاوید نسیمی

    پلکوں پہ لے کے بوجھ کہاں تک پھرا کروں

    اے خواب رائیگاں میں بتا تیرا کیا کروں

    وہ ہے بضد اسی پہ کہ میں التجا کروں

    کچھ تو بتا اے میری انا اب میں کیا کروں

    پانے کی جد و جہد میں عمریں گزر گئیں

    اک بار تجھ کو کھونے کا بھی حوصلہ کروں

    ہر آنے والا بزم میں تیری ہے محترم

    تعظیم کو میں سب کی کہاں تک اٹھا کروں

    ہر اک ورق ہے تجھ سے شروع اس کتاب کا

    تو ہی بتا کہاں سے میں اب ابتدا کروں

    ہے زیر غور اپنی ہی چاہت کا احتساب

    تیری وفا پہ کیا میں ابھی تبصرہ کروں

    مآخذ :
    • کتاب : Khwab Aasmano ke (Pg. 52)
    • Author : Javed Nasimi
    • مطبع : Educational Publishing House (2014)
    • اشاعت : 2014

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY