پرکھ فضا کی ہوا کا جسے حساب بھی ہے

کنول ضیائی

پرکھ فضا کی ہوا کا جسے حساب بھی ہے

کنول ضیائی

MORE BYکنول ضیائی

    پرکھ فضا کی ہوا کا جسے حساب بھی ہے

    وہ شخص صاحب فن بھی ہے کامیاب بھی ہے

    جو روپ آئی کو اچھا لگے وہ اپنا لیں

    ہماری شخصیت کانٹا بھی ہے گلاب بھی ہے

    ہمارا خون کا رشتہ ہے سرحدوں کا نہیں

    ہمارے خون میں گنگا بھی ہے چناب بھی ہے

    ہمارا دور اندھیروں کا دور ہے لیکن

    ہمارے دور کی مٹھی میں آفتاب بھی ہے

    کسی غریب کی روٹی پہ اپنا نام نہ لکھ

    کسی غریب کی روٹی میں انقلاب بھی ہے

    مرا سوال کوئی عام سا سوال نہیں

    مرا سوال تری بات کا جواب بھی ہے

    اسی زمین پر ہیں آخری قدم اپنے

    اسی زمین میں بویا ہوا شباب بھی ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY