پیچ دے زلف عنبریں نہ کہیں

زیبا

پیچ دے زلف عنبریں نہ کہیں

زیبا

MORE BYزیبا

    پیچ دے زلف عنبریں نہ کہیں

    خود الجھ جاؤ اے حسیں نہ کہیں

    کبھی گھبراتے ہیں تو کہتے ہیں

    کوئی بیتاب ہے کہیں نہ کہیں

    بہت اصرار وصل پر نہیں خوب

    منہ سے کہہ دیں وہ پھر نہیں نہ کہیں

    ذکر جس غمزدے کا ہوتا ہے

    دل یہ کہتا ہے ہوں ہمیں نہ کہیں

    سجدے کرتے ہیں لوگ دیر میں بھی

    واں بھی اے یار ہوں ہمیں نہ کہیں

    ناز اٹھاتا ہے نازنینوں کے

    دل بھی ہو جائے نازنیں نہ کہیں

    سنتے ہیں عرش ہے رفیع بہت

    کوئی جاناں کی ہو زمیں نہ کہیں

    کہہ رہی ہے فسردگی ان کی

    مر گیا ہے کوئی کہیں نہ کہیں

    دل مرا لے گئے تو ہیں خوش خوش

    ہوں جو میری طرح حزیں نہ کہیں

    آسماں جس کو لوگ کہتے ہیں

    کوئی قاتل کی ہو زمیں نہ کہیں

    مضطرب بے سبب نہیں زیباؔ

    دل لگا ہے مگر کہیں نہ کہیں

    مآخذ:

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY