پیشتر جنبش لب بات سے پہلے کیا تھا

اعجاز گل

پیشتر جنبش لب بات سے پہلے کیا تھا

اعجاز گل

MORE BYاعجاز گل

    پیشتر جنبش لب بات سے پہلے کیا تھا

    ذہن میں صفر کی اوقات سے پہلے کیا تھا

    وصلت و ہجرت عشاق میں کیا تھا اول

    نفی تھی بعد تو اثبات سے پہلے کیا تھا

    کوئی گردش تھی کہ ساکت تھے زمین و خورشید

    گنبد وقت میں دن رات سے پہلے کیا تھا

    میں اگر پہلا تماشا تھا تماشا گہہ میں

    مشغلہ اس کا مری ذات سے پہلے کیا تھا

    کچھ وسیلہ تو رہا ہوگا شکم سیری کا

    رزق خفتہ کہ نباتات سے پہلے کیا تھا

    میں اگر آدم ثانی ہوں تو ورثہ ہے کہاں

    ظرف اجداد میں اموات سے پہلے کیا تھا

    ہر ملاقات کا انجام جدائی تھا اگر

    پھر یہ ہنگامہ ملاقات سے پہلے کیا تھا

    میں بھی مغلوب تھا حاجات کی کثرت سے مگر

    لطف اس کو بھی مناجات سے پہلے کیا تھا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY