Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

پھیلی ہوئی ہے رات چمٹ جانا چاہیے

سالم سلیم

پھیلی ہوئی ہے رات چمٹ جانا چاہیے

سالم سلیم

MORE BYسالم سلیم

    پھیلی ہوئی ہے رات چمٹ جانا چاہیے

    اب اپنے اندروں میں سمٹ جانا چاہیے

    یہ رشتہ ہائے خواب ہے بس اپنے درمیاں

    اس رشتہ ہائے خواب کو کٹ جانا چاہیے

    دیوار اٹھا رہا ہے کوئی اپنے جسم پر

    تو کیا مجھے بھی خانوں میں بٹ جانا چاہیے

    تقسیم ہو کے اور زیادہ ہوا ہے وہ

    بڑھنے سے پہلے ہم کو بھی گھٹ جانا چاہیے

    خاکی ہیں ہم سو خاک کی پرداخت کے لیے

    اس ملبۂ نگاہ سے پٹ جانا چاہیے

    مأخذ:

    سبھی رنگ تمہارے نکلے (Pg. 72)

    • مصنف: سالم سلیم
      • اشاعت: First
      • ناشر: ریختہ پبلی کیشنز
      • سن اشاعت: 2017

    مأخذ:

    واہمہ وجود کا (Pg. 70)

    • مصنف: سالم سلیم
      • اشاعت: 2nd
      • ناشر: ریختہ پبلی کیشنز
      • سن اشاعت: 2022

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 8-9-10 December 2023 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate - New Delhi

    GET YOUR PASS
    بولیے