پھر کوئی خلش نزد رگ جاں تو نہیں ہے

رام کرشن مضطر

پھر کوئی خلش نزد رگ جاں تو نہیں ہے

رام کرشن مضطر

MORE BYرام کرشن مضطر

    پھر کوئی خلش نزد رگ جاں تو نہیں ہے

    پھر دل میں وہی نشتر مژگاں تو نہیں ہے

    کیوں شام سے ڈوبے سے ہو امید کے تارو

    آبادئ دل‌ شہر خموشاں تو نہیں ہے

    کیوں ہے دل وحشت زدہ بیزار گلوں سے

    تاحد نظر راہ بیاباں تو نہیں ہے

    کیوں اٹھنے لگے آج قدم جانب صحرا

    پھر جوش جنوں سلسلہ جنباں تو نہیں ہے

    اے دوست رہ زیست بھی ہے تیرہ و پر خم

    لیکن یہ تری کاکل پیچاں تو نہیں ہے

    ہر چوٹ کا حاصل ہیں بلکتے ہوئے آنسو

    یہ درد یہ غم قسمت انساں تو نہیں ہے

    اے کاش کوئی موج مجھے اتنا بتا دے

    ساحل پہ بھی یہ شورش طوفاں تو نہیں ہے

    ہر شے میں ترے حسن کی ضو دیکھ رہا ہوں

    ہاں مجھ کو تری ذات کا عرفاں تو نہیں ہے

    پھولوں کی طرح ہنسنے لگے زخم ہزاروں

    دل بھی کہیں مجروح بہاراں تو نہیں ہے

    لہرانے لگے کیوں مری پلکوں میں حسیں خواب

    یہ سایۂ گیسوئے پریشاں تو نہیں ہے

    یہ رنگ یہ خوشبو یہ تبسم یہ شعاعیں

    یہ انجمن زہرہ جبیناں تو نہیں ہے

    اے دوست میں جیتا ہوں ترے غم کے سہارے

    اغیار کا مجھ پر کوئی احساں تو نہیں ہے

    یوں دل ہے ہر اک رنج و الم کا متحمل

    لیکن غم دوراں غم جاناں تو نہیں ہے

    یہ ناز یہ انداز یہ شوخی یہ ادائیں

    اے دل یہ کہیں بزم حسیناں تو نہیں ہے

    یہ چال یہ آنکھیں یہ نظر دیکھنا مضطرؔ

    یہ شوخ وہی رشک غزالاں تو نہیں ہے

    مآخذ
    • Raqs-e-bahar

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY