پھر کچھ اک دل کو بے قراری ہے

مرزا غالب

پھر کچھ اک دل کو بے قراری ہے

مرزا غالب

MORE BYمرزا غالب

    پھر کچھ اک دل کو بے قراری ہے

    سینہ جویائے زخم کاری ہے

    پھر جگر کھودنے لگا ناخن

    آمد فصل لالہ کاری ہے

    قبلۂ مقصد نگاہ نیاز

    پھر وہی پردۂ عماری ہے

    چشم دلال جنس رسوائی

    دل خریدار ذوق خواری ہے

    وہی صد رنگ نالہ فرسائی

    وہی صد گونہ اشک باری ہے

    دل ہوائے خرام ناز سے پھر

    محشرستان بیقراری ہے

    جلوہ پھر عرض ناز کرتا ہے

    روز بازار جاں سپاری ہے

    پھر اسی بے وفا پہ مرتے ہیں

    پھر وہی زندگی ہماری ہے

    پھر کھلا ہے در عدالت ناز

    گرم بازار فوجداری ہے

    ہو رہا ہے جہان میں اندھیر

    زلف کی پھر سرشتہ داری ہے

    پھر دیا پارۂ جگر نے سوال

    ایک فریاد و آہ و زاری ہے

    پھر ہوئے ہیں گواہ عشق طلب

    اشک باری کا حکم جاری ہے

    دل و مژگاں کا جو مقدمہ تھا

    آج پھر اس کی روبکاری ہے

    بے خودی بے سبب نہیں غالبؔ

    کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    مہران امروہی

    مہران امروہی

    عابدہ پروین

    عابدہ پروین

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY