پھول چہرہ آنسوؤں سے دھو گئے

سید حامد

پھول چہرہ آنسوؤں سے دھو گئے

سید حامد

MORE BYسید حامد

    پھول چہرہ آنسوؤں سے دھو گئے

    آئے تھے ہنسنے چمن میں رو گئے

    دل یہ اجڑا ہے کہ ان کی یاد کو

    مدتیں گزریں زمانے ہو گئے

    کس لئے محفل میں اتنی برہمی

    ہم چلے جاتے ہیں اٹھ کر لو گئے

    جب چلیں گے کاٹنے کل فصل کو

    تب کھلے گا آج کیا کیا بو گئے

    کوئی ٹھہرا ہے کسی کے واسطے

    کہہ رہے تھے جائیں گے ہم سو گئے

    ڈھونڈتے کیا گوشۂ مقصود کو

    راہ کی رنگینیوں میں کھو گئے

    کس لئے آئے تھے یاں تقدیر میں

    بوجھ ڈھونا جسم کا تھا ڈھو گئے

    چھوڑنا ممکن نہ تھا اسٹیج کو

    رول اپنا کرتے کرتے سو گئے

    تین ساتھی جا رہے تھے ساتھ ساتھ

    ایک باقی رہ گیا ہے دو گئے

    کیا یہی ہے دار فانی کی کشش

    پھر نہ لوٹے اس طرف کو جو گئے

    کر رہا ہے اک جہاں جن کا طواف

    بت کدہ میں کس کے درشن کو گئے

    آپ آزردہ ہوئے حامدؔ خفا

    لیجئے دونوں برابر ہو گئے

    مآخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY