پھول سے زخموں کا انبار سنبھالے ہوئے ہیں

آلوک مشرا

پھول سے زخموں کا انبار سنبھالے ہوئے ہیں

آلوک مشرا

MORE BY آلوک مشرا

    پھول سے زخموں کا انبار سنبھالے ہوئے ہیں

    غم کی پونجی مرے اشعار سنبھالے ہوئے ہیں

    ہم سے پوچھو نہ شب و روز کا عالم سوچو

    کیسے دھڑکن کی یہ رفتار سنبھالے ہوئے ہیں

    گھر بھی بازار کی مانند رکھے ہیں اپنے

    وہ جو بازار کا معیار سنبھالے ہوئے ہیں

    ایک ناول ہیں کبھی پڑھ تو ہمیں فرصت میں

    تن تنہا کئی کردار سنبھالے ہوئے ہیں

    ہم محبت کے تلے کانپ رہے ہیں ایسے

    جیسے درکی ہوئی دیوار سنبھالے ہوئے ہیں

    زخم لے کر یہ سبھی اپنے میں جاتا بھی کہاں

    یوں بھی اجلاس گناہ گار سنبھالے ہوئے ہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Added to your favorites

    Removed from your favorites