پھولنے پھلنے لگے ہیں صاحب زر اور بھی

ناز خیالوی

پھولنے پھلنے لگے ہیں صاحب زر اور بھی

ناز خیالوی

MORE BYناز خیالوی

    پھولنے پھلنے لگے ہیں صاحب زر اور بھی

    تنگ ہو جائے گی دھرتی مفلسوں پر اور بھی

    یہ زمیں زرخیز ہوگی خون پی کر اور بھی

    کھیتیاں اگلا کریں گی لعل و گوہر اور بھی

    ہر زمانے میں ثبوت عشق مانگا جائے گا

    لال ماؤں کے چڑھیں گے سولیوں پر اور بھی

    پھولتے پھلتے ہیں جذبے درد کے ماحول میں

    زخم کھائیں تو نکھرتے ہیں سخن ور اور بھی

    آفتاب ابھرا ہے جس دن سے نئی تہذیب کا

    ہو گیا تاریک انساں کا مقدر اور بھی

    جب چلی تحریک تعمیر وطن کی دوستو

    ہو گئے برباد کچھ بستے ہوئے گھر اور بھی

    جس قدر باہر کی رونق میں مگن ہوتا گیا

    بڑھ گئی بے رونقی انساں کے اندر اور بھی

    میں بناتا جا رہا ہوں اور بھی کچھ آئنہ

    وقت برساتا چلا جاتا ہے پتھر اور بھی

    بستیوں پر حادثوں کی چاند ماری کے لئے

    بڑھ رہے ہیں اوج کی جانب ستم گر اور بھی

    منفرد استاد دانشؔ بھی ہیں غالب کی طرح

    یوں تو دنیا میں ہیں نازؔ اچھے سخن ور اور بھی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY