پیچھے پڑا غنیم کا لشکر ہے کیا کریں

محمد اسد اللہ

پیچھے پڑا غنیم کا لشکر ہے کیا کریں

محمد اسد اللہ

MORE BYمحمد اسد اللہ

    پیچھے پڑا غنیم کا لشکر ہے کیا کریں

    بے معجزہ عصا ہے سمندر ہے کیا کریں

    ہاں دست احتیاط میں خنجر ہے کیا کریں

    دشمن ہماری ذات کے اندر ہے کیا کریں

    لازم ہوا ہے تیشۂ دل کا سنبھالنا

    ہر دست یار غار میں پتھر ہے کیا کریں

    اس رخ سے اب کسی طرح ہٹتی نہیں نظر

    وہ سب سے اس جہان میں ہٹ کر ہے کیا کریں

    قد آوری ہے اور کڑی دھوپ کا ہے قہر

    یہ آتشیں چنار مقدر ہے کیا کریں

    رستے نہیں ہیں رات کی ہیں دھجیاں تمام

    ہر سو شکست ذات کا منظر ہے کیا کریں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY