قدموں کو ٹھہرنے کا ہنر ہی نہیں آیا

ارشد عبد الحمید

قدموں کو ٹھہرنے کا ہنر ہی نہیں آیا

ارشد عبد الحمید

MORE BY ارشد عبد الحمید

    قدموں کو ٹھہرنے کا ہنر ہی نہیں آیا

    سب منزلیں سر ہو گئیں گھر ہی نہیں آیا

    تھی تیغ اسی ہاتھ میں قاتل بھی وہی تھا

    جو ہاتھ کہ مقتل میں نظر ہی نہیں آیا

    گھر کھود دیا سارا خزانے کی ہوس میں

    نیو آ گئی تہہ خانے کا در ہی نہیں آیا

    کیا شاخوں پہ اترائیے کیا کیجے گلوں کا

    پیڑوں پہ اگر کوئی ثمر ہی نہیں آیا

    سو خوف زمانے کے سمٹ آئے ہیں دل میں

    بس ایک خدا پاک کا ڈر ہی نہیں آیا

    مآخذ:

    • کتاب : Sadaa-e-aabju (Pg. 78)
    • Author : Arshad Abdul Hameed
    • مطبع : Arshad Abdul Hameed (2004)
    • اشاعت : 2004

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY