قصے مری آشفتہ نوائی کے بہت تھے

مجید اختر

قصے مری آشفتہ نوائی کے بہت تھے

مجید اختر

MORE BYمجید اختر

    قصے مری آشفتہ نوائی کے بہت تھے

    چرچے تری انگشت نمائی کے بہت تھے

    دنیا کی طلب ہی سے نہ فرصت ہوئی ورنہ

    ارمان ترے در کی گدائی کے بہت تھے

    کچھ دل ہی نہ مائل ہوا اس راہ پہ ورنہ

    سامان تو جنت کی کمائی کے بہت تھے

    کل شب مرے کردار پہ تنقید کی شب تھی

    کردار میں پہلو بھی برائی کے بہت تھے

    آزار کی خصلت بھی تھی لوگوں میں نمایاں

    کچھ شوق بھی اس دل کو بھلائی کے بہت تھے

    اب ساتھ نہیں ہے بھی تو شکوہ نہیں اخترؔ

    احسان بھی مجھ پر مرے بھائی کے بہت تھے

    مأخذ :
    • کتاب : اردو غزل کا مغربی دریچہ(یورپ اور امریکہ کی اردو غزل کا پہلا معتبر ترین انتخاب) (Pg. 458)
    • مطبع : کتاب سرائے بیت الحکمت لاہور کا اشاعتی ادارہ

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY