راہ طلب میں کون کسی کا اپنے بھی بیگانے ہیں

ابن صفی

راہ طلب میں کون کسی کا اپنے بھی بیگانے ہیں

ابن صفی

MORE BYابن صفی

    راہ طلب میں کون کسی کا اپنے بھی بیگانے ہیں

    چاند سے مکھڑے رشک غزالاں سب جانے پہچانے ہیں

    تنہائی سی تنہائی ہے کیسے کہیں کیسے سمجھائیں

    چشم و لب و رخسار کی تہ میں روحوں کے ویرانے ہیں

    اف یہ تلاش حسن و حقیقت کس جا ٹھہریں جائیں کہاں

    صحن چمن میں پھول کھلے ہیں صحرا میں دیوانے ہیں

    ہم کو سہارے کیا راس آئیں اپنا سہارا ہیں ہم آپ

    خود ہی صحرا خود ہی دوانے شمع نفس پروانے ہیں

    بالآخر تھک ہار کے یارو ہم نے بھی تسلیم کیا

    اپنی ذات سے عشق ہے سچا باقی سب افسانے ہیں

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    ابن صفی

    ابن صفی

    حبیب ولی محمد

    حبیب ولی محمد

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    راہ طلب میں کون کسی کا اپنے بھی بیگانے ہیں نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY