راہیں دھواں دھواں ہیں سفر گرد گرد ہے

اسد رضا

راہیں دھواں دھواں ہیں سفر گرد گرد ہے

اسد رضا

MORE BYاسد رضا

    راہیں دھواں دھواں ہیں سفر گرد گرد ہے

    یہ منزل مراد تو بس درد درد ہے

    اپنے پڑوسیوں کو بھی پہچانتا نہیں

    محصور اپنے خول میں اب فرد فرد ہے

    اس موسم بہار میں اے باغباں بتا

    چہرہ ہر ایک پھول کا کیوں زرد زرد ہے

    لفاظیوں کا گرم ہے بازار کس قدر

    دست عمل ہمارا مگر سرد سرد ہے

    کیسا تضاد شاخ تمنا میں ہے اسدؔ

    خود یہ ہری ہری ہے ثمر زرد زرد ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY