رات کا اپنا اک تقدس ہے سو اسے پائمال مت کرنا

خالد معین

رات کا اپنا اک تقدس ہے سو اسے پائمال مت کرنا

خالد معین

MORE BYخالد معین

    رات کا اپنا اک تقدس ہے سو اسے پائمال مت کرنا

    جب دیے گفتگو کے روشن ہوں لوٹنے کا سوال مت کرنا

    موسم یاد کا کوئی جھونکا، اب جو گزرے تمہاری خلوت سے

    سوچ لینا ہمارے بارے میں، پر ہمارا ملال مت کرنا

    رت جگوں کی رتیں تو خیر یوں ہی آتی جاتی ہیں، پر یہ دھیان رہے

    جاگنا بھی تو اس سلیقے سے، اپنی آنکھوں کو لال مت کرنا

    ہم سے درویش دنیا والوں سے، بس اسی بات پر الجھتے ہیں

    وحشت جسم و جاں بڑی شے ہے خود کو آسودہ حال مت کرنا

    دشت عبرت سرا میں رہنا تو سر سے سودا نکال کر رکھنا

    لوگ دشمن کہیں نہ ہو جائیں کوئی ایسا کمال مت کرنا

    لمحۂ ہجر اپنی وسعت میں، آپ لذت ہے، زندگی بھر کی

    تم بھی خالد معینؔ یوں کرنا، عمر صرف وصال مت کرنا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY