رات کا حسن بھلا کب وہ سمجھتا ہوگا

ذاکر خان ذاکر

رات کا حسن بھلا کب وہ سمجھتا ہوگا

ذاکر خان ذاکر

MORE BYذاکر خان ذاکر

    رات کا حسن بھلا کب وہ سمجھتا ہوگا

    چاند بے فیض اندھیروں میں نکلتا ہوگا

    چند لمحوں کی رفاقت کا اثر ہے شاید

    درد میٹھا سا کہیں اور بھی اٹھتا ہوگا

    ہچکیوں سے یہی اندازہ لگایا ہم نے

    یاد کوئی تو دل و جان سے کرتا ہوگا

    ساتھ گزرے ہوئے موسم کا تصور لے کر

    بارشوں میں وہ ہر ایک سال بہکتا ہوگا

    بس یہی سوچ کے ہر روز لکھا کرتا ہوں

    وہ مرا غم مرے اشعار میں پڑھتا ہوگا

    اس کے اشکوں کا گناہ گار میں ہو جاؤں گا

    وہ مجھے یاد اگر کر کے سسکتا ہوگا

    یاد ہوں گی اسے بھولی ہوئی قسمیں ذاکرؔ

    وہ مرے ذکر پہ چپ چاپ ٹھہرتا ہوگا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY