راز میں رکھیں گے ہم تیری قسم اے ناصح

شوق بہرائچی

راز میں رکھیں گے ہم تیری قسم اے ناصح

شوق بہرائچی

MORE BYشوق بہرائچی

    راز میں رکھیں گے ہم تیری قسم اے ناصح

    لے نکال اب وہی گانجے کی چلم اے ناصح

    اب خدا کے لیے رکھ ہم پہ کرم اے ناصح

    ہیں پریشاں تری بکواس سے ہم اے ناصح

    جھریاں رخ کی جو پیغام قضا لائی ہیں

    کب تلک جاؤ گے تم سوئے عدم اے ناصح

    بادہ نوشوں کو نہ سمجھانے کی کوشش کرنا

    ورنہ پھر ہوگا ترا ناک میں دم اے ناصح

    بعد مدت کے ملا ہے تو چلا چل مرے ساتھ

    مے کدہ یاں سے ہے بس چار قدم اے ناصح

    پوچھ لے بیتی ہے کیا رندوں کے ہاتھوں ان پر

    یہ جو ہیں تیرے چچا شیخ حرم اے ناصح

    کیا ہوا خیر تو ہے کیسی مصیبت آئی

    کس نے مارا تجھے کیوں آنکھ ہے نم اے ناصح

    بھول کر بھی کبھی منہ ان کے نہ لگنا ناداں

    کچھ خبر ہے بڑے بے ڈھب ہیں نیم اے ناصح

    تجھ کو بھی عشق بتاں کا مزہ کچھ ہو معلوم

    تیرے پلے ہوں اگر دام و درم اے ناصح

    تو ہے کیا سارا جہاں خوف سے کانپ اٹھتا ہے

    شوقؔ اٹھاتے ہیں جو شمشیر قلم اے ناصح

    مأخذ :
    • کتاب : intekhab-e-kalam shauq bahraichi (Pg. 57)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY