رفاقتوں کا بھرم توڑ جانے والا نہیں

اکرم جاذب

رفاقتوں کا بھرم توڑ جانے والا نہیں

اکرم جاذب

MORE BYاکرم جاذب

    رفاقتوں کا بھرم توڑ جانے والا نہیں

    مقابلے میں اگر آیا تر نوالہ نہیں

    پڑی ہوئی ہے نسب قیس سے ملانے کی

    کسی نے دشت مکمل مگر کھنگالا نہیں

    یہاں بلند صدائیں لگا غبار اڑا

    دیار عشق ہے تہذیب کا حوالہ نہیں

    ہمارے عہد کے سقراط مصلحت بیں ہیں

    کسی کے ہاتھ میں بھی زہر کا پیالا نہیں

    سفر میں رہنے سے اس کو قرار رہتا ہے

    یہ زخم دل کا ہے پاؤں کا کوئی چھالا نہیں

    ہوا کے ہاتھ لگی خوشبوؤں ذرا سن لو

    سنبھالے کون اگر پھول نے سنبھالا نہیں

    یہ جس نے رزق کی تنگی پہ خودکشی کر لی

    کہیں سماج نے مل کر تو مار ڈالا نہیں

    کریں گے یوں ہی سدا انتظار ساحل پر

    گہر تہوں سے سمندر نے جو اچھالا نہیں

    یہ احتیاط پسندی کہاں سے آئی ہے

    اگر زباں پہ کوئی مصلحت کا تالا نہیں

    کہانیاں نہ تراشیں خیالی دنیا کی

    کہاں جہان میں تفریق پست و بالا نہیں

    اجارہ داریاں قائم ہیں کس لئے جاذبؔ

    کوئی حوالہ اگر معتبر حوالہ نہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY