رفتہ رفتہ دل بے تاب ٹھہر جائے گا

عروج زیدی بدایونی

رفتہ رفتہ دل بے تاب ٹھہر جائے گا

عروج زیدی بدایونی

MORE BYعروج زیدی بدایونی

    رفتہ رفتہ دل بے تاب ٹھہر جائے گا

    رفتہ رفتہ تری نظروں کا اثر جائے گا

    داد بیداد کی اس میں کوئی تخصیص نہیں

    نقش ہستی میں کوئی رنگ تو بھر جائے گا

    آپ اگر مائل تجدید ستم ہو جائیں

    رنگ تعلیم وفا اور نکھر جائے گا

    ارض تشنہ پہ برس ابر رواں کھل کے برس

    بات رہ جائے گی یہ وقت گزر جائے گا

    دھوپ اور چھاؤں مسلم مگر اپنی حد میں

    وقت پابند نہیں ہے کہ ٹھہر جائے گا

    روشنی میں ہے چراغوں کے تلے تاریکی

    ہم سمجھتے تھے کہ ماحول سنور جائے گا

    عشق تو اپنی جگہ کیف مسلسل ہے عروجؔ

    نشۂ بادہ نہیں ہے جو اتر جائے گا

    مآخذ :
    • کتاب : Tahreek Silver Jubilee Number (Pg. 412)
    • Author : Gopal Mittal, Makhmoor Saeedi, Prem Gopal Mittal
    • مطبع : Monthly Tahreek, 9, Ansari Market, Daryaganj, New Delhi-110002 (Edition July, Aug., Sep. Oct. 1978,Volume No. 26,Issue No. 4,5,6,7,)
    • اشاعت : Edition July, Aug., Sep. Oct. 1978,Volume No. 26,Issue No. 4,5,6,7,

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY