رہے دریائے سخن یوں ہی رواں میرے بعد

ضیا فاروقی

رہے دریائے سخن یوں ہی رواں میرے بعد

ضیا فاروقی

MORE BYضیا فاروقی

    رہے دریائے سخن یوں ہی رواں میرے بعد

    بانجھ ہو جائے نہ غالب کی زباں میرے بعد

    کون دے گا انہیں خوشبو کا جہاں میرے بعد

    کس سے لپٹیں گے یہ نازک بدناں میرے بعد

    کو بہ کو پھرتی ہے اب چاروں طرف آوارہ

    بوئے گل کو نہ ملی جائے اماں میرے بعد

    لاکھ میں ننگ سخن ہوں پہ یقیں ہے مجھ کو

    لوگ ڈھونڈیں گے مرا طرز بیاں میرے بعد

    چھوڑ کر جاؤں گا میں گھر میں اجالے کا ثبوت

    کام آئے گا یہ طاقوں کا دھواں میرے بعد

    یار سب چل دئے بازار ہوس کی جانب

    ہو گئی راہ جنوں کم گزراں میرے بعد

    میں کہ خاتم بھی ہوں خود اپنی طبیعت کا ضیاؔ

    قط ہوا سلسلۂ آہ و فغاں میرے بعد

    مأخذ :
    • کتاب : Pas-e-Gard-e-Safar (Pg. 113)
    • Author : Zia Farooqui
    • مطبع : Educational Publishing House (2009)
    • اشاعت : 2009

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY