رہے نہ گھر کے ہوئے خوار یہ تو ہونا تھا

ظفر گورکھپوری

رہے نہ گھر کے ہوئے خوار یہ تو ہونا تھا

ظفر گورکھپوری

MORE BY ظفر گورکھپوری

    رہے نہ گھر کے ہوئے خوار یہ تو ہونا تھا

    تری تلاش میں اے یار یہ تو ہونا تھا

    قطار جلتے چراغوں کی بر سر دیوار

    سیاہیاں پس دیوار یہ تو ہونا تھا

    زمین بانٹنے والوں کے ہم مخالف تھے

    ہمیں پہ آ گری تلوار یہ تو ہونا تھا

    گزر کے اک رہ پر خار سے یہاں پہنچے

    یہاں سے پھر رہ پر خار یہ تو ہونا تھا

    افق سے پوچھ رہے ہیں کہاں گیا سورج

    ہوئے تھے دیر سے بیدار یہ تو ہونا تھا

    ہمیں نے اس کے لئے راستے بنائے تھے

    کہ گھر تک آ گیا بازار یہ تو ہونا تھا

    تعلقات کی تعمیر میں خلوص تھا کم

    بلند تر ہوئی دیوار یہ تو ہونا تھا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY