رہتا ہے اک ہر اس سا قدموں کے ساتھ ساتھ

منیر نیازی

رہتا ہے اک ہر اس سا قدموں کے ساتھ ساتھ

منیر نیازی

MORE BY منیر نیازی

    رہتا ہے اک ہر اس سا قدموں کے ساتھ ساتھ

    چلتا ہے دشت دشت نوردوں کے ساتھ ساتھ

    ہاتھوں کا ربط حرف خفی سے عجیب ہے

    ہلتے ہیں ہاتھ راز کی باتوں کے ساتھ ساتھ

    اٹھتی ہوئی فصیل‌ فغاں حد شہر پر

    گلیوں کی چپ قدیم مکانوں کے ساتھ ساتھ

    سورج کی آب زہر ہے رنگوں کی آب کو

    ہے دور تک بخار سا باغوں کے ساتھ ساتھ

    عریاں ہوا ہے ماہ شب‌ ابر و باد میں

    جیسے سفید روشنی غاروں کے ساتھ ساتھ

    آیا ہوں میں منیرؔ کسی کام کے لیے

    رہتا ہے اک خیال سا خوابوں کے ساتھ ساتھ

    مآخذ:

    • Book: 8 Gazal Go (Pg. 21)
    • Author: javed Shaheen
    • مطبع: Maktaba Meri Library,Lahore (1968)
    • اشاعت: 1968

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Added to your favorites

    Removed from your favorites