رکھ لی ماتھے پہ شکن اس کی نشانی جیسے

دھیریندر سنگھ فیاض

رکھ لی ماتھے پہ شکن اس کی نشانی جیسے

دھیریندر سنگھ فیاض

MORE BYدھیریندر سنگھ فیاض

    رکھ لی ماتھے پہ شکن اس کی نشانی جیسے

    نئے گھر میں ہو رکھی چیز پرانی جیسے

    ایسے بھولی ہے مری آنکھ ہنر رونے کا

    کسی جھرنے سے بچھڑ جائے روانی جیسے

    تیری آنکھوں سے بھلا کیسے ہٹاؤں آنکھیں

    مجھ پہ کھلتے ہی نہیں ان کے معانی جیسے

    آئنہ کہنے لگا کچھ کمی تجھ میں بھی ہے

    ہم نے بھی پوچھ دھرا اس سے کہ یعنی جیسے

    وہ کسی شعر میں ڈھل جائے غنیمت ورنہ

    اس کو تفصیل سے لکھوں گا کہانی جیسے

    ہم ترے ہجر میں صحرا کی طرف کیوں بھاگیں

    ہم نے سیکھی ہی نہیں خاک اڑانی جیسے

    میں نے ہر روز تجھے دل سے نکالا تو مگر

    کسی دریا سے نکالے کوئی پانی جیسے

    کیا برا ہے کہ جو باطن ہے وہی ظاہر ہے

    ہم کو آتی ہی نہیں بات بنانی جیسے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY