رکھے ہر اک قدم پہ جو مشکل کی آگہی

سبیلہ انعام صدیقی

رکھے ہر اک قدم پہ جو مشکل کی آگہی

سبیلہ انعام صدیقی

MORE BYسبیلہ انعام صدیقی

    رکھے ہر اک قدم پہ جو مشکل کی آگہی

    ملتی ہے اس کو راہ سے منزل کی آگہی

    سیکھا ہے آدمی نے کئی تجربوں کے بعد

    طوفان سے ہی ملتی ہے ساحل کی آگہی

    اس کا خدا سے رابطہ ہی کچھ عجیب ہے

    دنیا کہاں سمجھتی ہے سائل کی آگہی

    نظروں کا اعتبار تو ہے پھر بھی میرا دل

    ہے اک صحیفہ جس میں مسائل کی آگہی

    دن رات جس کے پیار میں رہتی ہوں بے قرار

    اس کو نہیں ہے کیوں دل بسمل کی آگہی

    یادوں کے اک ہجوم میں رہ کر پتا چلا

    تنہائی بھی تو رکھتی ہے محفل کی آگہی

    خنجر کا اعتبار نہیں وہ تو صاف ہے

    لیکن ملے گی خون سے قاتل کی آگہی

    مشق سخن سبیلہؔ نکھارے گی فن کو اور

    مطلوب ہے کچھ اور ابھی دل کی آگہی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY