رنگوں سے ٹھنڈے پانی کے چشمے بنا دئے

رفیق راز

رنگوں سے ٹھنڈے پانی کے چشمے بنا دئے

رفیق راز

MORE BYرفیق راز

    رنگوں سے ٹھنڈے پانی کے چشمے بنا دئے

    کاغذ پہ سایہ دار شجر بھی لگا دئے

    لاؤں گا اب کہاں سے نظارے کی تاب میں

    اس نے تو میری آنکھ سے پردے ہٹا دئے

    باغ حروف و گلشن معنی میں دیکھنا

    کس نے یہ خامشی کے نئے گل کھلا دئے

    چھوٹے سے ابر پارے نے آ کے سر فلک

    اہل نظر کو دن ڈھلے پیغام کیا دئے

    بس ہم تو ایک چھوٹی سی ضد پہ اڑے رہے

    دستار کو بچانے میں سر ہی کٹا دئے

    آنکھوں میں رہ گئے ہیں فقط آس کے سراب

    دریا وہ یاس کے تھے جو ان میں بہا دئے

    دن کو سفر کچھ اور بھی آسان ہو گیا

    راتوں کو سبز خواب یہ کس نے دکھا دئے

    ترتیب سے لئے ہیں تمہارے تمام نام

    اک اور ہی فلک پہ ستارے سجا دئے

    طوفاں کا روپ دھار لیا تیز سانس نے

    اتنا کہ خواب گاہ کے پردے ہلا دئے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY