رقص شباب و رنگ بہاراں نظر میں ہے

رام کرشن مضطر

رقص شباب و رنگ بہاراں نظر میں ہے

رام کرشن مضطر

MORE BYرام کرشن مضطر

    رقص شباب و رنگ بہاراں نظر میں ہے

    یہ تم نظر میں ہو کہ گلستاں نظر میں ہے

    اک روشنی سے عالم دل جگمگا اٹھا

    وہ ہیں کہ آفتاب درخشاں نظر میں ہے

    اہل جنوں سے کیجیے اب چاک دل کی بات

    دامن نظر میں ہے نہ گریباں نظر میں ہے

    ان کے کرم سے بڑھنے لگے دل کے حوصلے

    انداز التفات فراواں نظر میں ہے

    سو حسن لے کے آئی ہے دنیائے آرزو

    آرائش حیات کا ساماں نظر میں ہے

    بڑھتی ہی جا رہی ہیں مری بے قراریاں

    جب سے کسی کی زلف پریشاں نظر میں ہے

    نظارۂ جمال کئے دیر ہو چکی

    اب تک فروغ بزم حسیناں نظر میں ہے

    حلقہ بنا کے ناچ رہی ہیں تجلیاں

    کس مہ جبیں کا چہرۂ تاباں نظر میں ہے

    شاید اسی کے دم سے ہے قائم امید زیست

    اک جاں فروز شمع فروزاں نظر میں ہے

    ہم بھی نگاہ دوست سے نا آشنا نہیں

    ہر انقلاب گردش دوراں نظر میں ہے

    مضطرؔ کو اپنے بخت رسا پر ہے آج ناز

    آقا‌ حسنؔ کی بزم گل افشاں نظر میں ہے

    مآخذ
    • Raqs-e-bahar

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY