رقص کرتے جھومتے اور جلتے پروانے ملے

شوق مرادابادی

رقص کرتے جھومتے اور جلتے پروانے ملے

شوق مرادابادی

MORE BYشوق مرادابادی

    رقص کرتے جھومتے اور جلتے پروانے ملے

    مسکراتے موت کے سائے میں دیوانے ملے

    اہل دل چلنے لگے جب بھی سوئے دیر و حرم

    منتظر اس راہ میں ہر بار میخانے ملے

    دور ماضی جب چراغ یاد سے روشن ہوا

    وقت کی کھلتی ہوئی ہر تہ میں افسانے ملے

    بھول کر آزار دل حیرت میں پتھر ہو گئے

    دشمنوں کے بھیس میں جب جانے پہچانے ملے

    ابتدائے عشق میں سر سبز باغات خیال

    انتہائے عشق میں آباد دہرانے ملے

    عالم دیوانگی میں آ گیا ایسا مقام

    تو ہی تو آیا نظر جب اپنے بیگانے ملے

    کون سے فکر و تصور میں پیا کرتے ہیں شوقؔ

    رنگ میں ڈوبے ہوئے سب جام و پیمانے ملے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY