رستے میں تو خطرات کی سن گن بھی بہت ہے

رؤف خیر

رستے میں تو خطرات کی سن گن بھی بہت ہے

رؤف خیر

MORE BYرؤف خیر

    رستے میں تو خطرات کی سن گن بھی بہت ہے

    منزل پہ پہنچنے کی ہمیں دھن بھی بہت ہے

    ہر شہر میں تازہ ہے تو بس زخم تعصب

    کچھ لذت ناحق کا تعاون بھی بہت ہے

    کچھ ہاتھوں سے کچھ ماتوں سے کالک نہیں جاتی

    ہر چند کہ بازار میں صابن بھی بہت ہے

    وہ ہاتھ تحفظ کی علامت جسے کہیے

    محسوس یہ ہوتا ہے وہی سن بھی بہت ہے

    اک جسم کے مانند ہیں ہم لوگ کہیں ہوں

    ٹھوکر سے اکھڑتا ہے تو ناخن بھی بہت ہے

    ہم شعر کہا کرتے ہیں وجدان کے بل پر

    کچھ لوگوں کو زعم فعلاتن بھی بہت ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY