رشتہ جگر کا خون جگر سے نہیں رہا

فضیل جعفری

رشتہ جگر کا خون جگر سے نہیں رہا

فضیل جعفری

MORE BYفضیل جعفری

    رشتہ جگر کا خون جگر سے نہیں رہا

    موسم طواف کوچہ و در کا نہیں رہا

    دل یوں تو گاہ گاہ سلگتا ہے آج بھی

    منظر مگر وہ رقص شرر کا نہیں رہا

    مجبور ہو کے جھکنے لگا ہے یہاں وہاں

    یہ سر بھی تیرے خاک بہ سر کا نہیں رہا

    گھر کا تو خیر ذکر ہی کیا ہے کہ ذہن میں

    نقشہ بھی اس بھرے پرے گھر کا نہیں رہا

    باندھا کسی نے رخت سفر اس طرح کہ اب

    دل کو فضیلؔ شوق سفر کا نہیں رہا

    مآخذ:

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY