روتے ہیں جب بھی ہم دسمبر میں

اندر سرازی

روتے ہیں جب بھی ہم دسمبر میں

اندر سرازی

MORE BYاندر سرازی

    روتے ہیں جب بھی ہم دسمبر میں

    جم سے جاتے ہیں غم دسمبر میں

    جو ہمیں بھول ہی گیا تھا اسے

    یاد آئے ہیں ہم دسمبر میں

    سارے شکوے گلے بھلا کے اب

    لوٹ آ اے صنم دسمبر میں

    کس کا غم کھائے جا رہا ہے تمہیں

    آنکھ کیوں ہے یہ نم دسمبر میں

    یاد آتا ہے وہ بچھڑنا جب

    خوب روئے تھے ہم دسمبر میں

    وہی پل ہے وہی ہے شام حزیں

    آج پھر بچھڑے ہم دسمبر میں

    بس یہی اک تمنا ہے اندرؔ

    کاش مل جائیں ہم دسمبر میں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY